پہلے بند میں علامہ اقبال نے اپنے محبوب صلعم کے شہر مدینہ منورہ اور اسکے مضافات کی منظر کشی کی تھی، اور اس شہر اور اسکے ماحول سے عقیدت کا اظہار کیا تھا۔ اس بند میں وہ اپنے واردات و احوال اور امت محمدیہ کی زبوں حالی اور اسکی وجوہات کا تذکرہ کیا ہے۔
کہتے ہیں کہ اللّٰه اور رسول سے عشق میں صادق ہونے کی وجہ سے مجھے اہلِ فراق میں جگہ ملی ہے۔ میں، جو صاحبِ فراق ہوں، کس کو اپنے واردات و احوال بتاؤں کہ جس زندگی کی شراب (وہ کیفیات اور احوال جن کا تذکرہ اگلے اشعار میں ہے) سے لوگ سرشاری حاصل کرتے ہیں میرے لئے وہی مئے حیات کڑوی اور جان لیوا ہے۔ یہ مئے حیات میرے لئے زہر اس لئے ہے کہ یہ کائنات پرانی ہو چکی ہے، منجمد ہو چکی ہے، اسکی ہر شئے باسی اور فرسودہ ہو چکی ہے، اس کا نظام فساد، تباہی اور ویرانی کا شکار ہو چکا ہے۔ جبکہ میرے احوال و واردات بالکل تازہ دم ہیں، نئے ہیں اور خیر لئے ہوئے ہیں جس کو یہ فرسودہ نظام قبول نہیں کر رہا ہے۔
کہتے ہیں کہ اہلِ حرم (مسلمان) اب حرم والے کہلانے لائق نہیں رہے کیونکہ انھوں نے اپنے نفس، بزرگوں اور چیزوں کو اپنا الہ، اپنا محور و مقصود بنا لیا ہے یعنی اہلِ حرم نے بھی اہلِ دیر کی طرح اپنے اپنے الگ سومنات بنا لئے ہیں۔ تو کیا اس امت میں اب کوئی محمود غزنوی جیسا نہیں ہے جو اہلِ حرم کے ان بتوں کو توڑنے کے لئے آئے؟ اسی مدعا کو قرآن یوں بیان کرتا ہے:
کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمّہ لے سکتے ہو؟ (الفرقان: 43)
عربوں کا مزاجِ دین ایسا تھا کہ اللّٰه کو غیب میں مانتے ہوئے بھی ذکر و عبادات ایسے کرتے تھے کہ گویا وہ اللّٰه کو دیکھ رہے ہیں، لیکن اب عربوں کا وہ مشاہدہ یا دیکھنا ختم ہو گیا ہے، انکی عبادات میں وہ خشوع و خضوع باقی نہیں رہا۔ دوسری طرف عجمی، جن کی فکری و علمی پرواز بہت بلند تھی اور انھوں نے علم و فکر میدان بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دئیے، انکے تخیلات اب پستی کا شکار ہو ہیں، اسلام کی حقانیت اور وحدانیت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے والا ذہن کند ہو کر رہ گیا ہے۔ یعنی عربی اور عجمی دونوں موجود ہیں لیکن انکے جسم اپنی اپنی روح سے خالی ہو چکے ہیں۔
یہ امت قافلے کی مانند اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے لیکن وقت کے ظلم و جبر کے سامنے یہ قافلہ کبھی سرخرو نہیں ہو سکتا اور نا ہی کبھی رزمِ حق و باطل میں ڈٹ کر کھڑا ہو سکتا ہے کیونکہ اس قافلے میں حضرت حسین رض جیسا کوئی قائد و رہبر موجود نہیں ہے، حالانکہ آج بھی دجلہ و فرات کی گیسو نما موجوں میں چمک اور پیچ و خم موجود ہے جیسا کہ حضرت حسین رض کے دور میں تھا یعنی ظلم و انصاف کی رزم گاہ آج بھی منتظر ہے اس قافلے کی جس کا سالارِ قافلہ حسین جیسا صاحب استقامت شخص ہو۔
عقل، دل اور نگاہ تینوں مل کر علم کی تکمیل کرتے ہیں یعنی حقیقت یا ذہن کے موضوع کو کامل صورت میں انسان کے اندر اتارتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ علم کے ان تینوں ذرائع کے کئی رہبر ہیں لیکن عشق کو ان تمام ذرائع میں مستقل اور مرشدِ اوّلیں کی حیثیت حاصل ہے۔ دوسرے لفظوں میں علم کے تینوں الگ الگ راستے جب عشق کی رہبری میں چلتے ہیں تو ایک منزل تک پہنچتے ہیں یعنی اللّٰه کی طرف۔ لیکن اگر یہ عشق (اللّٰه کے ساتھ تعلق) موجود نا ہو تو ہر دین و شریعت محض انسان کے خیالات و تصورات میں بنے ہوئے بت ہیں۔
اس شعر میں علامہ نے کچھ مثالیں پیش کی ہیں جہاں عشق ظہور پذیر ہوا ہے، وہ عشق جو علم کا مرشدِ اولیں بنتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا صدق بھی عشق کا مظہر ہے کہ انہوں نے باطل کے علمبرداروں کے سامنے حق کا اعلان کیا اور حضرت حسین رض کا میدانِ کربلا میں صبر و استقامت کے ساتھ کھڑا ہونا بھی عشق ہی کا مظہر ہے۔ ازل سے وجود کا معرکہ چل رہا ہے جس میں وجود کا ایک عنصر اسے کمال و بلندی کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا پستی کی طرف۔ وجود کا یہ معرکہ بھی اسی طرح عشق کا مظہر ہے جس رسول اللہ صلعم کے زمانے میں بدر و حنین کا معرکہ تھا۔ وجود کے اس معرکے کو علامہ اقبال نے ایک دوسرے شعر میں پیش کیا ہے:
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی