طالب علم

آج کے دور میں طالبِ علم ایک عجیب کشمکش سے گزر رہا ہے۔ سہولتیں بڑھ گئی ہیں، معلومات کی فراوانی ہے، مگر اس کے باوجود بہت سے نوجوان یہ سوال لیے ہوئے ہیں کہ علم حاصل کرنے کا اصل مقصد کیا ہے؟ ترقی کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ زندگی کی سمت کیسے متعین کی جائے؟ وہ تڑپ، وہ بے قراری، وہ جستجو جو طالب علمی کے زمانے کی پہچان ہونی چاہیے—اکثر مفقود نظر آتی ہے۔
علامہ اقبالؒ کی یہ نظم اسی فکری جمود کو توڑنے کے لیے ہے۔ وہ طالب علم کو جھنجھوڑتے ہیں، اسے خوابِ غفلت سے بیدار کرتے ہیں، اور اس کے دل میں ایک نیا جوش، نئی امنگ اور بلند مقصد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اگر اس نظم کو گہرائی سے سمجھ لیا جائے تو انسان کو نہ صرف اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے بلکہ عمل کی ایک نئی راہ بھی ملتی ہے۔
اقبالؒ یہاں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ محض کتابیں پڑھ لینے سے انسان صاحبِ فکر اور صاحبِ کردار کیسے بن سکتا ہے؟ ایک سچا طالب علم کن بنیادوں پر اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے؟ انہی نکات کو واضح کرنے کے لیے وہ یہ دو اشعار پیش کرتے ہیں۔

خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال ایک دعا کے انداز میں طالبِ علم کو مخاطب کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمہارے اندر وہ بے چینی اور اضطراب پیدا نہیں ہو رہا جو کسی زندہ قوم اور بیدار دل انسان کی علامت ہوتا ہے۔ تمہارے وجود کو ایک سمندر سے تشبیہ دی گئی ہے، مگر اس سمندر کی موجیں ساکن ہیں—ان میں حرکت نہیں، طوفان نہیں، جوش نہیں۔

اقبالؒ اس سکون کو پسندیدہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے جمود قرار دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ خدا طالب علم کو کسی ایسے طوفان سے آشنا کرے جو اس کے اندر ہلچل مچا دے، اسے غفلت سے نکال دے، اور اسے بلند مقاصد کے لیے تیار کر دے۔ یہ طوفان دراصل فکر کی بیداری ہے، ملت کی سربلندی کا جذبہ ہے، دین کی خدمت کا شوق ہے، اور اپنی ذات کو بہتر بنانے کی بے قراری ہے۔

اقبالؒ کے نزدیک زندہ انسان وہ ہے جو اپنی حالت پر مطمئن نہ ہو بلکہ ہمیشہ بلند تر منزل کی تلاش میں رہے۔ طالب علم کے دل میں یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ اصل کامیابی صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنی قوم، اپنے دین اور انسانیت کے لیے مفید بننا ہے۔

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں

معنی

فراغ: فراغت، تعلیم مکمل کرنا۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال ایک نہایت اہم اور گہرا نکتہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تم کتابیں تو بہت پڑھتے ہو، مگر تم ابھی تک “صاحبِ کتاب” نہیں بن سکے۔ یہاں کتاب خواں سے مراد وہ شخص ہے جو صرف مطالعہ کرے، معلومات جمع کرے، مگر اس علم کو اپنی زندگی اور کردار میں نہ ڈھالے۔ جبکہ صاحبِ کتاب وہ ہوتا ہے جس کے اعمال، اخلاق اور طرزِ زندگی اس کے پڑھے ہوئے علم کا عملی نمونہ ہوں۔
اقبالؒ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اصل مقصد محض پڑھ لینا نہیں بلکہ اپنے کردار کو سنوارنا ہے۔ اگر علم انسان کے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے، اگر وہ اس کے رویّوں اور فیصلوں میں جھلک نہ دکھائے، تو وہ علم محض الفاظ کا ذخیرہ بن کر رہ جاتا ہے۔
اسلامی تناظر میں سب سے بڑی اور کامل کتاب قرآنِ مجید ہے۔ جب حضرت عائشہؓ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔ یعنی قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ جینے کے لیے ہے۔
اگر کوئی طالب علم اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں صاحبِ قرآن بنا لے—اس کے اخلاق، سوچ اور عمل قرآن کے مطابق ہو جائیں—تو وہی انسان دراصل بلندی، وقار اور کامیابی کی منزل پا سکتا ہے۔ اقبالؒ ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ علم کو زندگی میں اتارنا، اور کتاب کو کردار میں بدلنا ہی اصل انقلاب کی بنیاد ہے۔