آزادی نسواں

انیسویں، بیسویں اور اکیسویں صدی میں فیمنسٹ مومینٹ ایک بڑا سماجی رجحان رہا ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف شعبوں میں محسوس کیے گئے۔ اہلِ فکر کے درمیان یہ بحث پیدا ہوئی کہ عورت کو آزادی کس حد تک ملنی چاہیے۔ علامہ اقبال نے اس مسئلے پر جو تنقید کی ہے وہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ وہ عورت کی فطرت کو بنیاد بنا کر سوال اٹھاتے ہیں کہ خود عورت کے لیے کیا چیز بہتر ہے۔ اسی نکتے کو اس نظم کی تشریح میں واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں سکتا
گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے وہ قند

معنی

قند: شکر

تشریح

پہلے شعر میں علامہ اقبال یہ کہتے ہیں کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ جس آزادی کو عورت کے لیے دلکش بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت اس کے لۓ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اسے دلکش انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ جیسے اگر کسی انسان کو سیدھا زہر دیا جائے تو وہ اسے قبول نہیں کرے گا، لیکن اگر وہی زہر کسی پسندیدہ مٹھائی میں ملا دیا جائے تو وہ اسے فوراً کھا لے گا۔ اقبال کے نزدیک یہی صورتِ حال اس تحریک کے بارے میں پیدا ہو رہی ہے۔

کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند

تشریح

چونکہ علامہ اقبال مغربی نظریات پر تنقید کرتے تھے، اس لیے مغرب سے مرعوب لوگ ان سے ناخوش رہتے تھے۔ اسی کیفیت کو وہ اس شعر میں بیان کرتے ہیں کہ اگر وہ اس مسئلے پر کھل کر کچھ کہیں تو تہذیب کے خود ساختہ علم بردار ان سے مزید ناراض ہو جائیں گے۔

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں معذور ہیں، مردان خردمند

معنی

مردانِ خردمند : عقل مند مرد

تشریح

تیسرے شعر میں اقبال فرماتے ہیں کہ دنیا کے دانش مند لوگ اس موضوع پر بہت بحث کر چکے ہیں، مگر اس کا اصل اور سادہ حل یہ ہے کہ عورت کی فطرت ہی سے پوچھا جائے کہ اس کے لیے کیا چیز بہتر ہے اور وہ اپنے لۓ کس چیز کو پسند کرتی ہے

کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
آزادی نسواں کہ زمرد کا گلو بند

تشریح

چوتھے شعر میں علامہ اقبال عورت سے سوال کرتے ہیں کہ آرائش اور قیمت کے اعتبار سے زیادہ قیمتی کیا ہے: محض آزادی، یا زمرد کا گلوبند؟

یہاں “زمرد کا گلوبند” سے مراد ایک نہایت قیمتی اور خوب صورت زیور ہے۔ زمرد سبز رنگ کا قیمتی پتھر ہوتا ہے اور اس کا ہار عام طور پر شوہر اپنی بیوی کو تحفے کے طور پر دیا کرتا تھا۔
اصل سوال یہ ہے کہ وہ آزادی جس میں عورت پر ہر ذمہ داری ڈال دی جائے—گھر کے کام بھی، اور روزی کمانے کی فکر بھی—کیا واقعی اس کے لیے بہتر ہے؟ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ملازمت ہر ایک کے لیے یکساں نہیں ہوتی۔ بہت کم لوگ اعلیٰ درجوں تک پہنچ پاتے ہیں، اور وہاں بھی عورت کو اپنے سے بالا عہدوں پر موجود افراد کی بہت سی ناگوار باتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ گھر کے کاموں کے علاوہ اسے دفتر کے دباؤ کو بھی سہنا پڑتا ہے، جو کہ اسکی زندگی کو مشکل ترین اور الجھی ہویٔ زندگی بنا دیتے ھیں ،
اقبال کے زاویۂ نظر سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ بہتر نہیں کہ عورت اور مرد ایک خاندانی نظام کے تحت ساتھ رہیں، جہاں کفالت کی بنیادی ذمہ داری مرد پر ہو؟ اس سے عورت کی آزادی ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کی سہولت اس پہلو سے بڑھ جاتی ہے کہ اگر وہ گھر سے باہر جانا چاہے، گھومنا پھرنا چاہے یا کسی سرگرمی میں حصہ لینا چاہے تو وہ ایسا کر سکتی ہے۔